یر قان کو معمو لی نہ سمجھیں

کچھ لو گوں کا خیال ہے کہ یر قا ن صر ف ایک خاص عمر کے لوگوں کو ہی ہو سکتا ہے۔ ان کا خیال غلط ہے۔ یرقان کسی بھی شخص کو عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔ لیکن عمو ماً اسے بچوں کی بیماری کہا جا تا ہے۔یرقان کی ایک وجہ جگر کی خر ابی بھی ہو سکتا ہے ۔اس کے علاوہ خون کی ایسی بیماریا ں جن میں سرخ دانے وسیع پیمانے پر ضا ئع ہو رہے ہو ں یہ بھی یرقان کا با عث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ انجکشن، پانی کا ٹیکہ،سانپ کازہر بھی یرقان کا سبب بنتے ہیں۔ اگر اس کا بر وقت علاج نہ کیا جائے تو یہ کالے یرقان کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو رفتہ رفتہ مو ت ہے۔
بہر حال وجہ کو ئی بھی ہو اسے معمو لی نہ سمجھیں۔ اگر آپ میں درج ذیل علامت میں سے کو ئی بھی علامت مو جو د ہے تو فوری اپنے معالج سے مشورہ کر یں۔
علامات
یرقان کے مر یضوں کی جلد کی رنگت پیلی ہو نے کے ساتھ آنکھو ں کی سفید جھلی بھی پیلا ہٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔
بخار رہنا اور معدے میں بوجھ اور بھاری پن رہنا ۔
یر قان کی صور ت میں آپ جلد تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ تھو ڑا سا کام کر کے بھی تھک جائیں تو یہ یر قان کی علامت ہے۔
یر قان کا مر یض اکثر و بیشتر پیٹ درد کی شکا یت کر تا ہے۔
یر قان کی صور ت میں بھو ک کم لگتی ہے اور وزن تیز ی سے کم ہو تا ہے۔
اگر آپ کو کھانا دیکھ کر فور ی متلی ہو اور دل خر اب ہو تو ڈاکٹر سے رجو ع کر یں۔
یر قان کے مر یضوں کی خوراک ۔
یرقان کے علاج کے لیے ہمیں ایسی غذا کی ضرورت پڑتی ہے جو نالی دار غدود کے فعل میں تیز ی پید ا کر ے ۔ خو ن اور جسم سے صفر ادی مادوں کو خارج کر نے کا عمل تیز کریں۔ اس طر ح جسم اور خو ن میں بڑھے ہو ئے صفر ادی ما دے جب اعتدال پر آجائیں تویرقان کا خا تمہ ہو جاتا ہے۔
عر قیات(عر ق کاسنی، عر ق مکو اور عر ق سو نف) ، تازہ پھلوں کے رس ( شربت بزوری، انار کا جو س، فالسہ،الا ئچی کا شر بت ، املی اور آلو بخارے کا شربت، گنے کا رس، کیلے کا ملک شیک،دودھ سو ڈا، دہی کی لسی،لیمو ں پا نی)اور قہو ہ جات (سو نف، سفید زیر ہ اور سبزالائچی کاقہوہ اگرقبض کی شکایت ہو تو قہو ے میں گلاب کی پتیا ں شامل کر لیں)کو اپنی غذا کا حصہ بنائیں ۔
اسپغول کا چھلکا استعمال کر یں۔
پیشاب کم آنے والی غذا سے گریز کر یں۔ جیسے انڈہ، پکو ڑے، کریلے، سموسے، بھنے چنے، مو نگ پھلی، کشمش، اچار ، گو ل گپے۔کڑھی اور بند گو بھی کا استعمال نہ کر یں ۔
کھانوں میں لال مر چ کے بجائے کالی مر چ کا استعمال کر یں۔
گا جر ، مو لی، کھیر ا ، شلجم، توری ، ٹینڈے، اروی ، پیٹھا، مو نگرے اپنی غذا میں شامل کر یں۔
خربو زہ، تربو ز ، امرود، کیلا، کینو ، میٹھا، شہتو ت، انار،جامن، آلو بخارا وغیر ہ استعما ل کر یں۔
صر ف غذائی پرہیز ہی آپ کو یرقان سے کسی حد تک شفا دے سکتا ہے۔
علاج
آلو بخارا ایک تو لہ ، کاسنی ایک تو لہ ، پانی ایک پاؤ
ان سب کو مٹی کے برتن میں رات بھر کے لیے بھگو دیں۔ صبح مل کر چھان لیں اور نہار منہ مصر ی شامل کر کے پئیں۔
انار کا رس تیس گر ام ، تربوز کے گو دے کا رس تیس گر ام کھیر ے کا رس دس گر ام شر بت بزوری
تمام چیزوں کو ملا کر استعمال کر یں۔ ایک ہفتے میں نمایاں فرق پڑے گا۔
مغز بادام پانچ عدد الائچی خر د پانچ عدد چھو ہا را چار عدد
ان سب کو مٹی کے برتن میں رات بھر کے لیے بھگو دیں۔ صبح کھجو ر کی گھٹلی نکال لیں اور الائچی اور بادام کے چھلکے اتار لیں۔ اب ان کو مٹی کے برتن میں گھو ٹیں پھر پچاس گر ام مصر ی شامل کریں۔ اس عمل سے تیسر ے دن پیشاب صا ف ہو نے لگے گا۔
کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں