گرمی کا نچو ڑفالسہ کے فو ائد

یہ ایک مشہور پھل ہے جو گرمیوں کے شروع ہو تے ہی آجاتا ہے اور صر ف چند دن کا مہمان ہو تا ہے۔ یہ پہلے سبز،لال اور پھر جامنی رنگ کا ہوتا ہے۔اس کا ذائقہ ترش اور شیریں ہوتا ہے۔اس کا درخت قد آور ہو تا ہے۔اس کی دو اقسام ہیں ایک قسم شروع میں ترش اور آخر میں چاشنی دارہو تی ہے۔اسے شر بتی فالسہ کہتے ہیں۔ دوسری قسم میں کمیاب میخوش اور بعد میں شریں ہو تا ہے اسے شکری فالسہ کہتے ہیں۔
اس میں آئرن، نمکیا ت، پانی، پروٹین اور کاربوہائیڈ ریٹ بھی مو جو د ہو تا ہے۔اس کے علاوہ اس میں فائبر، چکنائی اور نشاستہ بھی پایا جاتا ہے۔
اس کا شربت صبح شام پینے سے بلڈ پریشر کم ہو تا ہے۔
اس میں اینٹی آکسیڈنٹ مو جو د ہو تے ہیں جو کینسر کے مر یض کے لیے مفید ہیں۔
یہ یرقان اور جگر کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔
دل کی دھڑکن خاص طور پر بے چینی کو دور کر تا ہے۔
یہ جسم کو طاقت دیتا ہے۔
یہ لو لگنے سے بچاتا ہے اس لیے فالسے کا استعمال گرمی میں لازمی کر یں۔
نظا م ہاضمہ کو بہتربناتا ہے اور اس کے فعال کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔
جسم میں پانی کی کمی کو دور کر تا ہے۔
پیٹ دردکے لیے اس کے جو س میں تھو ڑا سا گرم پانی اور اجو ائن ملا کر پی لیں۔
یہ جو انی کو دیر پا رکھتا ہے۔
معدے اور سینے کی گرمی کو دور کر تا ہے۔
یہ پیشاب کے امراض میں مفید ہے۔
سوزاک کو دور کر تا ہے۔
پھو ڑے پھنسیوں پر اس کے پتے رگڑ کر لگانے سے فا ئدہ ہو گا۔
جریان اور احتلام میں اس کا استعمال مفید ہے۔
سیلان الر حم لیکو ریا کے لیے مفید ہے۔
فالسہ خو ن کے جو ش کو کم کر تا ہے۔
یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
یہ گرمی کی وجہ سے ہو نے والی متلی، قے اور ابکائی کو دور کر تا ہے۔
گر می کے بخار میں اس کا استعمال فا ئدہ مند ہے۔
اس کی جڑ کی چھال کا جو شاندہ بنا کر پینا جوڑوں کے درد کے لیے مفید ہے۔
فالسہ کے پانی کے غر ارے کر نے سے خناق کو فا ئدہ ہو تا ہے۔
احتیا ط
سینے اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔اس لیے اس کا استعمال زیادہ نہیں کر نا چاہیے۔
گر م مز اج والوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
اگر اسے ضرورت سے زیادہ کھا لیے جائے تو کھانے کے بعد ایک چمچ گلقند کا کھا لیں۔
اس کے بیج قبض پیدا کر تے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں