گرمیو ں کی عا م بیماری۔۔۔یر قان

گرمیا ں اپنے ساتھ بہت سی بیماریا ں لے کر آتی ہیں۔ جن میں سے کچھ مہلک ہو تی ہیں اور کچھ معمو لی۔اگر معمو لی بیماریو ں پر تو جہ نہ دی جائے تو وہ مہلک ہو سکتی ہیں۔ اس لیے بیماری کو ئی بھی اس پر فوری تو جہ دیں تا کہ بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
یرقان کو خامو ش وائر س کہا جا تا ہے۔ یہ اے،بی ا،سی،ڈی اور ای قسم کاہو تا ہے۔ اے جب یہ مر ض حدسے بڑ ھ جاتا ہے تو مریض کا جگر گل جاتا ہے جو کام کر نا چھو ڑ دیتا ہے اس کا آخری علا ج جگر کی پیو ند کاری ہے۔ اگر بی قسم کے یر قان کا بر وقت علاج نہ کیا جا ئے تو یہ بڑھ کر جگر کے کینسر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
ہیپا ٹا ئٹس اے کی ابتدائی علامات
سستی کا ہلی
منہ کا ذائقہ کڑوا ہو نا
معدہ میں درد
متلی اور قے
بخار
بھوک کی کمی
جسم کاپیلاہو نا
فضلا اور پیشاب کی رنگت کا پیلا ہو نا
رنگ اگر گو لڈ ن،پیلا ہوتو جگر کی خرابی کی وجہ سے خون کے سرخ ذرات کی تباہی سے اور سبزی مائل زرد کینسر کی وجہ سے ہو تا ہے۔
اگر آپ کا جگر صحیح کام نہیں کر رہا تو آپ کے چہرے اور آنکھو ں کی سفیدی کی رنگت پیلی پڑ جاتی ہے ایسا خو ن میں زرد مو اد جسے ”بِالی رُبن“ کہتے ہیں بڑھ جانے کی وجہ سے ہو تا ہے۔
بی اور سی کی علاما ت
یہ علا مات بہت آہستگی سے ظا ہر ہو تی ہیں۔ تب تک مر ض لا علا ج ہو چکا ہو تا ہے۔
خون کے قے آنا
یہ بیماری جب بڑھتی ہے تو اس سے خو ن کے قے آنے لگتے ہیں۔
بے ہو شی ہو نا
مر یض بے ہو شی کی کیفیت میں رہتا ہے۔
سانس سے بو آنا
سانس سے بو آنے لگتی ہے۔ ایسا اس صور ت میں ہوتا ہے جب جگر کام کر نا چھو ڑ دیتا ہے۔
نیند کی کمی
اس مر ض کی شد ت میں نیند کی کمی ہو جاتی ہے۔
ہاتھوں میں کپکپی
مریض کو رعشہ کی بیماری ہو جاتی ہے۔
خارش
جگر کا مر ض خارش کا بنیا دی سبب ہے با لکل ایسے ہی جیسے گردوں کے فیل ہو نے، تھائی رائیڈکے مسائل کا سبب ہیں۔ خارش پورے جسم کو متاثر کر تی ہے۔ خارش کی جگہ کے علاوہ باقی تمام جلد نارمل رہتی ہے۔
زخم
جن لوگوں کو جگر کامسئلہ ہو انھیں زخم لگنا یاان کا خو ن آسانی سے رستا ہے۔کیو نکہ جو پروٹین خو ن جمانے کے لیے ضروری ہو تے ہیں وہ سست پڑ جاتے ہیں یا خو ن بنانا بند کر دیتے ہیں۔
سو جن
جگر کے ٹھیک کام نہ کر نے کی صورت میں پیٹ اور ٹانگوں میں پانی جمع ہونے لگتا ہے۔
علاج
عجو ہ کھجو ر کے سات دانے نہار منہ کھانے سے اس مر ض سے نجات ملتی ہے۔
منقی یا کھجو ر کو رات بھگو کر صبح اس کا پانی پیا جائے تو یرقان میں شفا ہے۔
انار اور تربوز کے گو دے کا رس تیس تیس گر ام، کھیر ے کا رس دس گر ام اور شربت بزوری تیس گرا م لے کر سب چیزوں کو مکس کر کے پی لیں۔
شہد کے ساتھ پکے ہو ئے کیلے کھانا مفید ہے۔
ادرک کا رس اور گڑ کھانے سے یرقان کا علا ج ممکن ہے۔
گا جر کا چو رن ایک تو لہ لے کر چار تو لہ دہی میں ملا کرکھانے سے افاقہ ہو گا۔
گنا کا رس یرقان کے لیے بہترین ہے۔
لیمو ں پانی اس مر ض کے لیے مفید ہے۔
مو لی میں یہ خاصیت موجود ہے کہ یہ فا ضل مو اد کو باہر نکالتا ہے۔ مو لی کے پتوں کا رس نکال کر اس میں چینی ملائیں اور اس کو پی لیں۔
گاجر کے جو س میں شہد ملا کر نہار منہ پینے سے بہترین نتائج ملتے ہیں۔
بادام جسم سے فاضل مو اد کو باہر نکالنے میں مدد کر تا ہے۔ اور انفیکشن کے خلا ف لڑنے میں مدد دیتا ہے۔ دس سے بارہ بادام رات کو بھگو دیں اور صبح ان کے چھلکے اتار کر کھا لیں۔
املی اور انار دانے کا شربت یرقان کو جڑ سے ختم کر تا ہے۔
احتیاط
سگریٹ اور الکو حل سے گریز کر یں۔
کاربو ہا ئیڈریٹ سے پرہیز کر یں۔
تلی ہو ئی اور چکنی چیزوں سے اجتناب کر یں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں