پھٹی ایڑیا ں حسن کا داغ

انسانی جسم کا کو ئی بھی حصہ نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں ہے خو اہ وہ چہر ہ ہو یا ہاتھ پیرکیوں نہ ہو ۔ ہر حصہ تو جہ اور وقت مانگتا ہے ۔ اس با ت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حسن بھی اس وقت تک مکمل نہیں ہو تا جب تک وہ بے عیب نہ ہو ۔ اگر کو ئی عیب قد رت کی طر ف سے ہے تو یہ الگ بات ہے لیکن اگر کو ئی کمی ہماری اپنی کاہلی اورلاپرواہی کی وجہ سے ہے تو اس کے لیے نظر انداز کیا جانا ٹھیک نہیں۔ ہم مہنگے سے مہنگے کپڑے پہنتے ہیں۔ خو بصور ت نظر آنے کے لیے جدو جہد کر تے ہیں۔مہنگی اور خو بصور ت جو تیو ں سے اپنے پا ؤ ں سجاتے ہیں۔ لیکن حسن آکر وہا ں ماند پڑ جاتا ہے جب آپ کی شخصیت آپ کے مہنگے کپڑوں اور جو تو ں سے میل نہ کھاتی ہو ۔ خو د سو چیں الجھے با ل اور بے رونق چہر ہ کیا آپ کے اچھے کپڑوں میں بھی بھلا لگ سکتا ہے ۔ یقیناًآپ کی خو بصور تی کو ماند کر دے گا یہی حال پیروں کاہے آپ نے نازک ہیل والے جوتے پہن رکھے ہوں اور آپ کی پھٹی ایڑیا ں ان میں سے جھانک رہی ہوں تو سو چیں کہ آپ کے لیے کس قدر شرمندگی کاباعث ہوسکتاہے ۔ آپ محفل جان بننے کے بجائے پیروں کو چھپانے کی کو شش میں رہیں گی۔
اس لیے بہتر اور ضرور ی ہو تا ہے کہ آپ کہیں جانے سے قبل خو د پر ایک طائرانہ نگاہ ضرورڈال لیں آیا کہ آپ کی تیاری مکمل ہے یا آپ کوابھی ان مراحل سے گزرنا ہے۔آج ہم بات کر یں گے خو بصور ت نازک جو تی میں بے رونق اور بد نما پھٹی ایڑیو ں کے بارے میں کہ انکو کس طرح نرم وملائم بنایاجا سکے۔
پھٹی ایڑیو ں میں باریک شگا ف یا دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔سطحی دراڑوں میں جلد کی سب سے اوپر والی تہہ متا ثر ہو تی ہے۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ دراڑ گہر ی ہو کر جلد ی دو سری اور تیسر ی تہہ کو بھی متا ثر کر تی ہے۔اس مر حلے میں ان میں درد محسو س ہو نے لگتا ہے اور اکثر ا ن سے خون بھی بہتا ہے بعض دفعہ ان میں انفیکشن ہو جاتا ہے اور انھیں ’’اسپیٹک فشر ز ‘‘ کہا جاتا ہے۔
ہماری ہتھیلیوں اور تلوں کی جلدباقی جسم سے مختلف ہوتی ہے۔ان جگہوں کی جلد اضافی تہوں سے بنی ہوتی ہے۔اس اوپروالی موٹی تہہ کو’’ پو سٹ بی مو ‘‘بھی کہا جاتا ہے کیو نکہ ان جگہو ں پر بال نہیں اگتے۔نہ ہی ان جگہو ں پر جلد کو نرم اور نم رکھنے والے گلینڈز ہو تے ہیں ۔
ایڑیا ں پھٹنے کی علامات
جلد سخت اور کھر دری ہو جاتی ہے۔
جلد کا سو کھ کر بے جان ہو جانا۔
ایڑیو ں کا سیاہ اور پھٹ جانا۔
چلتے ہو ئے درد ہو نا۔
ایڑیو ں کا اٹکنا۔
خارش،انفیکشن اور خو ن نکلنا ۔
علا ج
مو م دیسی (شہد کے چھتے کا مو م ) پچاس گر ام گندھک آملہ سار دس گر ام
ان کو مکس کر لیں اور جب لگانا ہو تو تھو ڑا سا گر م کر لیں۔ روزانہ رات کو لگا کر سو ئیں اور صبح اٹھ کر دھو لیں۔ پندرہ دنوں میں پھٹی ایڑیا ں ٹھیک ہو جائیں گی۔
ہفتے میں دو بار نیم گر م پانی میں دو چمچے سر کہ اورا سکمڈ ملک ملائیں اور اس پانی میں پندرہ منٹ کے لیے پاؤں بھگو دیں اور کسی پتھر سے یا فٹ فا ئلر سے ایڑیو ں کو رگڑیں اور تو لیے سے خشک کر لیں۔اب ایڑیو ں پر پیٹرو لیم جیلی لگا کر جرابیں پہن لیں ۔ کچھ دنوں کے استعمال سے ایڑیا ں ٹھیک ہو جائیں گی۔
آدھا پاؤ سرسوں کا تیل لیں اور اسے فر ائی پین میں پکائیں اب ایک درمیانی سائز کی مو م بتی لے کر اس کے ٹکڑے تیل میں ڈالیں اور چمچہ بر ابر چلاتے رہیں پھر اسے اتار کر ٹھنڈا کر لیں اور کسی بو تل میں ڈال لیں اور رات سو نے سے پہلے ایڑیو ں پر لگائیں اور صبح اٹھ کر نیم گر م پانی سے دھو لیں۔
خشک اور کھر دری ایڑیو ں پر پکا ہو ا کیلا (چھیل کر ) چپکائیں اور کچھ دیر بعد صا ف پانی سے دھو لیں۔
ویز لین اور لیمو ں کو ہم وزن لے کر لگانے سے بھی ایڑیا ں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں