پر انا طریقہ نیا علاج

طب کے حو الے سے جتنے بھی اصول اپنا ئے جائیں ان میں کچھ نقا ئص نہیں خاص طور پر متبا دل ادویات اور متبادل طبی طریقہ کار جن میں تھراپی وغیر ہ بھی شامل ہے۔ اس قسم کے متبا دل نظام میں سائیڈ ایفیکٹس بھی بے شمار پائے جاتے ہیں۔
تمام اقسا م کی متبادل ادویات اور متبادل سسٹم وہ کہلاتے ہیں جو کوئی ڈگری نہ رکھتا ہو لیکن اس نظام سے علاج کیا جائے۔متبادل طر یقہ علاج کو ہم مختلف زمروں میں تقسیم کر تے ہیں۔ ان میں سے کچھ فزیکل، میڈیکل اور سائیکالوجیکل طریقے ہیں۔
فزیکل تھر اپی میں خالص دیسی طریقے ہیں جن کو قدیم زمانے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان میں ہڈی اور جوڑ وں کے معا ملات سر فہر ست ہے۔ دیسی طریقہ مساج بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔
میڈیکل میں وہ ادویات استعمال کی جاتی ہیں جن میں کھانے کے لیے دوائی دی جاتی ہے۔ ان میں ہربل میڈیسن ہیں جنہیں غیر تربیت یافتہ معالج بناسو چے سمجھے دے دیتے ہیں۔
سائیکو لو جیکل طریقہ کار بھی بے حد مشہور ہے۔ اس میں تنو یمی عمل، سکو نیات، ماہر اسغر اق،مر اقبہ اور فال شامل ہیں۔ ان کو خا ص طبقے میں ہی سہی لیکن استعمال ضرور کیا جا تا ہے۔
ان ادویات یا طریقہ کار کو unorthoolox medicineکہا جاتا ہے اور آج کل اس طریقہ کار کو زیادہ فو قیت دی جاتی ہے اورلوگوں کی ایک بڑی تعداد ان طریقو ں سے مطمئن نظر آتی ہے۔
سمجھ اس بات سے غا فل ہے کہ اس ترقی کے دور میں بھی ان علاجوں کو فو قیت کیو ں دی جاتی ہے۔حالانکہ زمانہ بے حد ترقی کر چکا ہے۔ آج کی ترقی انسانی جسم کے اندر تک کے تمام مسائل کا حل کر نے کی صلا حیت رکھتی ہے۔ جن امر اض کو پہلے لا علاج قر ار دیا جاتا تھا وہ اب با آسانی علاج میں لائے جاتے ہیں۔ مہلک بیماریو ں کا علاج با آسانی کیا جاتا ہے۔
آرتھو ڈوکس ڈاکٹر اور ادویات کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ ان کی ادویا ت مرض کی گہر ائی تک نہیں جاتی بلکہ ان کا مقصد علاج بر ائے علاج ہو تا ہے۔ یہ علاج تو کر تی ہیں لیکن یہ ادویات انسانی نفسیات، طبعیات اور ماحو لیات پر گہر ا اثر ڈالتی ہے۔
آج کی جد ید ترقی ان تینو ں عناصر کو نقصان پہنچاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی آرتھو ڈوکس کے پاس جاتے ہیں تو وہ آپ کی بیماری کی مکمل تشخیص کر ے گا اور پھر آپ کو نشہ آور گو لیو ں پر لگا دے گا جو صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔
متبادل طریقہ علاج میں ڈاکٹر مریض کو کم اور مرض کو زیادہ دیکھتے ہیں۔ جبکہ پر انے طریقے میں مریض اور مر ض دونوں کا خیال رکھا جا تا ہے اور قدرتی عو امل سے مریض کا علاج کیا جا تا ہیے جس سے سائیڈ ایفیکٹ کم سے کم ہو نے کا خطرہ ہو تا ہے۔ اس علاج میں جدید ترقی کا کو ئی عمل دخل نہیں ہو تا۔اس لیے ایک بار پھر پر انا طریقہ علاج نئے روپ میں تیزی سے تر قی کررہا ہے۔
پر انے طریقہ علاج کو نئے انداز سے پیش کر کے علاج کے نئے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں جن میں بہت حد تک کامیابی ملی ہے۔اس لیے اگر آپ کو نئے طریقے سے کامیابی نہیں مل رہی تو پرانے طریقوں میں جد ت پیدا کی جاسکتی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں