ماہواری اور بے چینی

ماہو اری اپنے ساتھ بہت سے مسائل اور اندیشے لے کر آتی ہے۔ ایک قدرتی مسئلہ ہو نے کے باوجود خو اتین ان مسائل کو قبو ل نہیں کر پاتی۔ہر عورت کے ہارمو نز مختلف ہو تے ہیں۔ اس لیے سب میں ہارمو نز کے مسائل بھی مختلف ہو تے ہیں۔ کسی میں ہارمو نز بدلنے کی رفتار نیز ہو تی ہے اور کسی میں انتہا ئی آہستہ ہو تی ہے۔
ہارمو نز کی تبدیلی ماہو اری سے دس دن پہلے ہو نے لگتی ہے۔ جن میں سے اکثر خو اتین کو یہ تبدیلی اسی دن سے محسوس ہو نے لگتی ہے۔ ہارمو نز کی یہ تبدیلی کسی بھی بخار، ٹانگوں میں درد، پیٹ درد، چڑچڑا پن، مہاسوں کا نکلنا، چھاتی کا بھاری ہو نا اور ڈپریشن جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
ماہو اری میں ہو نے والے مسائل میں سب سے زیادہ ہو نے والا مسئلہ ڈپریشن ہے۔ اس دوران خو ن کا بہاؤ تیز، تکلیف کا احساس زیادہ اور چڑچڑے پن کا حملہ ہو نا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماہو اری کے دوران بیمار ہونا، درد اور بے چینی محسو س کرنا نارمل بات ہے چو نکہ ہارمو نز کا لیو ل تیز ہو تا ہے۔ اس لیے ہر عورت اس دوران جسمانی اور ذہنی طور پر خو د کو مبتلا دیکھتی ہے۔اس دوران خو اتین صر ف آرام کر نا چاہتی ہیں۔
اگر ماہو اری کے دوران، پہلے یا بعد میں ڈپریشن کی شکایت بر قر ار رہے اور شد ید ہو نے لگے تو اپنی معالج سے مشورہ کریں ممکن ہے اس کی وجوہات کوئی اور ہو ں۔
چو نکہ پہلے دو دن خون کا بہاؤ تیز ہو تا ہے اس لیے اس دوران بے چینی اور چڑچڑاہٹ کاہو نا ایک عام سی بات ہے۔ اس دوران پریشانی میں مبتلا ہو نے کے بجائے خود کو ان حالات کے لیے تیار رکھیں کیو نکہ یہ قدرتی امرہے۔
ماہو اری کے دوران درد کا کو ئی حل نہیں یہ دوران ماہو اری ہر عورت کو فیس کر نا پڑتے ہیں اس کا واحد حل آرام ہے۔
باقاعدگی سے ورزش کریں۔
گرم پانی سے غسل کریں۔
ذہنی دباؤ سے دور ہیں۔
میتھی دانے کا ایک چمچ ایک گلاس پانی میں بھگو کر بارہ گھنٹے بعد پی لیں۔اس سے درد میں کمی ہوگی اور ڈپریشن میں کمی آئے گی۔
گرم پانی میں شہد ملا کر پینے سے ذہنی سکو ن ملتا ہے۔
خشک ادرک ایک کپ پانی میں بو ائل کرلیں۔ اب اس میں کالی مرچ اور شہد ملا کر پی لیں تو اس تکلیف دہ مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

کیٹاگری میں : ماں

اپنا تبصرہ بھیجیں