صحت مندی کے لیے بچوں کو ورزش کی عا دت ڈالیں

اگر آپ اپنے بچوں کو ذہین بنانا چاہتے ہیں تو انھیں ا سکول سے آتے ہی میدان میں بھیجیں بچے خودبخود ذہین ہو جائیں گے۔لیکن آج کے دور میں بچوں کو گھر میں قید کر کے رکھ دیا ہے بچوں کازیا دہ تر وقت کھیل کو دکے بجائے انٹرنیٹ اور مو بائلز پر گزرتا ہے۔ جس نے بچو ں کی ذہنی اور جسمانی طا قت تبا ہ کر کے رکھ دی ہے۔ آج کے بچے صحت مند ہو نے کے بجائے مو ٹاپے اور دیگر بیماریو ں کا شکار رہتے ہیں۔ ظا ہر سی بات ہے کہ جب بچوں کو اپنی ذہنی صلا حیتیں اجا گر کر نے کے لیے مناسب میدان نہیں ملے گاتو ان کی ذہنی صلا حیتیں بر ی طر ح تبا ہ ہو ں گی۔
بچو ں کا یہ حق ہے کہ انھیں زندگی کی تمام سہو لیا ت کے ساتھ ساتھ کھیلنے کو دنے اور ورزش کر نے کا مو قع دیا جا ئے۔ تا کہ ان کے مسلز مضبو ط ہو سکیں۔ بچپن میں بچو ں کی ہڈیا ں نازک ہو تی ہیں۔غلط انداز میں بیٹھنے، اٹھنے اور بھاگنے دوڑنے سے ان میں نقا ئص پید ا ہو جاتے ہیں۔ اگر جسم کو مناسب طور پر ورزش دی جائے تو اس سے بچوں کی نشو ونما اچھی ہو تی ہے۔
ورزش کر نے سے قامتی نقا ئص سے بچا جا سکتا ہے۔ اگر عضلات کا زمانہ گزر جائے تو بچے کبھی بھی مضبو ط اعضاء کے ما لک نہیں ہو سکتے۔ ورزش کر نے سے بچوں کا قد بھی بڑھتا ہے اور ان کے خو ن کی گر دش سے صاف خو ن زیادہ ملتا ہے جو صحت مندی کی علامت ہے۔
بڑے تو ورزش سے دور بھاگتے ہی ہیں بچے بھی اس سے گریز کر تے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بچوں کو ورزش کی ضرورت نہیں یہ قیاس انتہائی غیر مناسب ہے۔ بچوں کو پڑھائی کے ساتھ غیر نصا بی سر گر میو ں کی ضرور ت ہو تی ہے تا کہ ان کے اندر قو ت مد افعت میں اضا فہ ہو سکے اور وہ مختلف قسم کی بیماریو ں سے دور رہ سکیں۔
اگر آپ بچوں کو ورزش کے لیے مناسب وقت نہیں دے پا رہے تو ان کو چھو ٹے چھو ٹے کام کر نے کی ترغیب دیں تاکہ ان کے مسلز مضبو ط ہو سکیں۔ جو تے پالش کر نا، تار سے کپڑے اتارنا، اپنے کھلو نے سمیٹنا، سائیکل چلانا یہ سب صحت مند ورزش کی علامتیں ہیں۔
انسانی جسم کا ساٹھ فیصد حصہ ہڈیو ں اور مسلز کے مر کب پر مشتمل ہو تا ہے۔ یہ دونوں جس قدر ایک دو سرے سے جڑے ہو ئے ہوں گے اتنا ہی ایک دو سرے سے رابطہ بہتر اور مؤ ثر ہو گا۔جس کی وجہ سے جسم کی کار کر دگی اچھی رہے گی۔
بچوں کو کم از کم پندرہ منٹ ورزش کر وائیں۔ اس سے بچے کی نہ صر ف جسمانی بلکہ ذہنی صحت بھی اچھی ہو گی۔ بچے تیزی کے ساتھ بڑھیں گے۔ اگر دوران ورزش کسی قسم کا درد محسوس ہو تو سمجھ لیں کہ متاثرہ جگہ میں مسلز اورہڈیو ں کا رابطہ کمزور پڑ رہا ہے۔ جب تک ان کا رابطہ ٹھیک نہیں ہو گا درد محسو س ہوتارہے گا اور یہ درد اسی صور ت کم ہو گا جب مکمل ورزش ہو گی تو یہ مسلز خو د بخو د ٹھیک ہو جائیں گے۔
ایک با ت کا خیال رکھیں کہ بچوں کو اجتماعی ورزش کر وائیں۔ انفرادی ورزش کے مقا بلے میں بچوں کو اجتماعی ورزش کر وائیں اس سے زیادہ بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ ورزش کر نے والے بچے خو د کو نہ صر ف چا ق و چو بند محسوس کر تے ہیں بلکہ وہ تو انا بھی رہتے ہیں۔
ان کی ذہنی صلا حیتیں اجاگر ہو تی ہیں۔
کھیلتے کو دتے صحت مند بچے کسی بھی معا شرے کے مثبت ما حو ل کی عکا سی کر تے ہیں ورزش بچوں کی صحت اور شخصیت پر اچھے اثرات مر
تب کر تی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں