دو ران حمل صبح آنے والی الٹیو ں سے پر یشان نہ ہوں کیو نکہ ۔۔۔۔۔تحقیق

دوران حمل آنے والی قے اور متلی سے خو اتین پر یشان رہتی ہیں۔ لیکن اب سائنسدانو ں نے دلچسپ تحقیق کر تے ہو ئے کہا ہے کہ ایسی خو اتین جو صبح کو آنے والی الٹیو ں اور متلی سے پریشان ہیں۔ ان کو اب پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں کیو نکہ اس میں ان کو فائدہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن خو اتین کو ایسا نہیں ہو تا ان کے لیے یہ بات باعث تشو یش ہے۔
میل آن لائن کی رپور ٹ کے مطا بق سائنسدانو ں کا کہنا ہے کہ حا ملہ ہو نے پر خو اتین کے جسم میں ہارمو نز کی مقدار بہت زیادہ ہو نے لگتی ہے۔ جس سے ان کو قے اور متلی آنے لگتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کے پیٹ میں مو جو د بچے کو آکسیجن اور نشو ونما کے لیے ضرور ی اجز اء میسر آ رہے ہیں اور رحم ما در سے فاضل ما دوں کا بہتر اخر اج ہو رہا ہے۔
بر طانیہ کی یو نیو رسٹی آف ریڈنگ کے سائنسدانو ں کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر خو اتین کی اس حالت کا ذمہ دار اینڈو کینن نامی ہارمو ن ہو تا ہے جو دماغ پر اس انداز سے اثر انداز ہو تا ہے کہ وہ متلی محسو س کر نے لگتا ہے۔
صبح کو آنے والی الٹی کو بہتر قر ار دیتے ہو ئے ماہر ین کا کہنا ہے کہ اس سے بچے کو آکسیجن اور ضرور ی اجز اء بخو بی مل رہے ہیں۔ تحقیقا تی تحریک کے سر بر اہ کا کہنا ہے کہ یہ شکایت حمل کے سو لہ سے بیس ہفتو ں میں ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے خو اتین پر یشان ہو نے کے بجائے آرام سے ان دنوں کو گزار یں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں