تہہ در تہہ جلد اور اس کے مسا ئل

ہماری جلد پر کچھ ایسی تہیں لگی ہو تی ہیں جو ہماری جلد میں بہت سے اہم کام سر انجام دیتی ہیں۔ یہ تہیں ہمیں بیکیڑیا کے حملوں سے محفو ظ رکھتی ہے ۔یہ جسم کے اندر مو جو د بہت سی حساس نسو ں کو زخمی ہو نے سے محفو ظ رکھتی ہیں۔اس کے علاوہ سورج کی مضر شعا عو ں سے محفوظ رکھتی ہیں اور جسم سے نمی کو خارج نہیں ہو نے دیتی ۔
جلد کی تہیں
ہماری جلد تین تہو ں سے مل کر بنی ہے۔بالائی جلد،درمیانی جلد اور تختی جلد ۔
نچلی جلد میں چکنائی کی لو یں، خو ن کی رگیں اور اعصاب شا مل ہیں۔یہ جلد درمیانی جلد کے ساتھ مل کر نسو ں سے جڑتی ہیں جو پٹھوں اور ہڈیوں کو اپنی جگہ پر مضبو ط رکھتی ہیں۔جب انسان بو ڑھا ہو نے لگتا ہے تو یہ نسیں جسم میں جذ ب ہو نے لگتی ہیں۔ جس کی وجہ سے بیرونی سطح ڈھیلی پڑ جاتی ہے اور وہ نا ہمو ار شکل اختیار کر لیتی ہے جو جھریوں کے طور پر نظر آنے لگتی ہے۔ درمیانی تہہ تختی جلد کے اوپری حصے میں واقع ہوتی ہے اور اسی کو ’’ اصل جلد ‘‘ کہتے ہیں۔اس کے اندر خون کی رگیں،اعصاب،غدو د اور پسینہ اور چکنائی کے غدو د شامل ہیں۔
پے پی لائے کی تہیں
درمیانی تہہ کے بالائی حصے میں بہت چھو ٹے مخروطی شکل کے اجزا ء پائے جاتے ہیں۔ہمارے پورے جسم میں پا ئے جانے والے ان مخر وطی اجزاء کی تعداد ۱۵۰ ملین ہے۔انگلیوں کی پوروں پر ان کی تعداد زیادہ ہو تی ہے۔
یہ تہہ جلد کی اوپر ی سطح پر بڑے ہمو ار طر یقے سے چسپا رہتے ہیں۔ جلد کی بالائی سطح مچھلی کے چھلکوں کی مانند چھو ٹے چھو ٹے اجز اء پر مشتمل ہے جو دراصل جلد کے مر دہ خلیے ہیں۔یہ خلیے رفتہ ر فتہ سو کھ کر جھڑتے رہتے ہیں اور ان کی جگہ نچلی سطح پر بننے والے نئے خلیے اوپر آتے رہتے ہیں۔
ہماری جلد میلانن نامی ایک چیز سے رنگ حا صل کر تی ہے جو ہماری جلد کو سو رج کی تیز شعا عوں کے نقصان سے بچاتی ہے۔
درمیانی سطح میں دو قسم کے غدو د پائے جاتے ہیں۔پسینے کے غدو د اور ’’ سی بے شس‘‘ جو چکنائی خارج کر تے ہیں۔ یہ چکنائی بالوں اور جلد کو خشک ہو نے سے روکتی ہے۔
جلد کو صا ف ستھر ا رکھنا ضرور ی ہے تب ہی یہ اندرونی بیکٹیر یا ٹھیک طر یقے سے کام کر سکیں گے۔
کلینز نگ کر یں
اس کے کر نے سے جلد سے خارج ہو نے والی اضا فی چکنائی دور ہو تی ہے۔پسینہ ، مر دہ خلیات اورگر دوغبا ر بھی دور ہو تے ہیں۔
نم نا خن
نا خن اگر نم ہو ں تو لچکدار ہو تے ہیں جبکہ سخت خشک اور بھر بھر ے ہو تے ہیں اورآسانی سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ان کی وجہ کیلشیم ، وٹامنز اور پر وٹین کی کمی کے علاوہ خشک صابن ، محلو ل اورکیمیائی اشیا ء بھی ہو سکتی ہیں۔
آنکھو ں کے گر د ہلکے
ان کا تعلق کسی سیا ل بیماری سے نہیں بلکہ جسمانی سا خت اور مو روثیت سے ہو سکتا ہے۔ پپو ٹو ں کی جلد باریک ہو تی ہے اور اس کے اندر چکنائی کی رگیں مو جو د ہو تی ہیں۔جلدکے قر یب کی خو ن کی رگیں بعض اوقا ت نیلی یا سیاہ دھاریوں کی شکل میں نظر آنے لگتی ہیں۔تھکن کے باعث یہ اور بھی نمایاں ہو جاتی ہیں۔یہ تا ریک ہلکے ما ہو اری کے دنوں،حمل کے آخر میں اور بھی واضح ہو جاتے ہیں۔بڑھاپے میں یہ رنگ مستقل ہو جاتے ہیں۔
تل اور مسئے
یہ بیرونی سطح پر وائرس کے انفیکشن کے با عث بنتے ہیں۔ جسم کے مختلف مقا مات پر نکلنے والے مسؤ ں کو مختلف نام دئیے جاتے ہیں۔
کچھ مسئے بے ضرر ہو تے ہیں( ان سے سر طان کا خطر ہ نہیں ہو تا )ان کو بجلی کے جھٹکوں یا منجمند کرکے نکالا جا تا ہے۔
کچھ مسئے ایسے ہو تے ہیں جو کسی بیماری کی صور ت میں نمو دار ہو تے ہیں۔ان کو ختم کر نے کے لیے بیماری کی تشخیص ضروری ہے ۔
تل جسم کے کسی بھی حصے میں ہو ں بے ضرر ہو تے ہیں لیکن اگر ان میں سے خو ن نکلے ، اپنی رنگت بد لیں یا ان میں کو ئی تبدیلی ہو تو فوری ڈاکٹر سے رجو ع کر یں۔
کیل مہا سے
یہ عام جلد ی بیماری ہے جو ہر نو جو ان ہو تے مر د اور عورت کے چہر ے پر نمو دار ہو تی ہے کبھی یہ سنگین صور ت حال اختیار کر لیتے ہیں تو کبھی بے ضرر ہو کر خو د ہی جھڑ جاتے ہیں۔ ان کو دور کر نے کے لیے جلد کی حفا ظت ازسر ضروری ہے ویسے بلوغت کی عمر ختم ہو تے ہی یہ خو د ہی جھڑ جاتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو یا یہ مہاسے نشان چھو ڑ جائیں تو اپنے معالج سے مشورہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں