بکر ی کے دودھ کے فو ائد

ہم میں سے زیادہ تر لو گ گا ئے اور بھینس کا دودھ پینا پسند کر تے ہیں۔ بہت کم لو گ ایسے ہیں جو بکر ی کا دو دھ پیتے اور پسند کر تے ہیں۔ وہ بھی دو ر دیہات کے لو گ بکر ی کا دودھ پیتے ہیں۔ بکر ی کا دو دھ اتنا عام بھی نہیں اور نہ ہی گا ئے بھینس کے دودھ کی طر ح یہ عام بکتا ہے۔
بکر ی کے دودھ کی سب سے بڑی خا صیت یہ ہے کہ بکری کو سل کی بیما ری نہیں لگتی اس لیے اس کا دودھ اس مر ض کے جر اثیم سے پا ک ہوتا ہے۔اس لیے بکری کا دودھ بغیر گر م کیے پینا بھی فائدہ مند ہے۔ اس کے دودھ میں ایسے جر اثیم نہیں ہو تے جو انسانی جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ کچھ لو گ صر ف بکری کادودھ صرف اس لیے استعمال نہیں کرتے کہ اس دودھ میں خاص بوآتی ہے۔ وہ اس بات سے بے خبرہوتے ہیں کہ بوان کے دودھ میں طبعی خصوصیات کی وجہ سے ہو تی ہے جو جسم میں کم ہو ئی پلیٹلیٹس کو فوری بڑھا دیتے ہیں۔
ڈینگی کے بخار میں مبتلا افر اد کے لیے بکری کا دودھ مفید ہے۔
بکر ی کا دودھ استعمال کر نے سے جسم میں مو جو د ایسڈ آسانی سے ہضم ہو جاتے ہیں۔ جس سے بلڈ پر یشر، کینسراور شوگر کے مرض کاعلاج آسان ہوتا ہے۔
اس میں مو جو د پروٹین ہو نے کی وجہ سے یہ چھو ٹے بچوں کو آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔
جو لو گ دودھ میں مو جو د لیکٹو ز کو ہضم نہیں کر پاتے وہ بکر ی کے دودھ کا استعمال کر یں۔ اس کے دودھ میں مو جو د لیکٹو ز آسانی سے ہضم ہو جاتے ہیں جس سے جسم ہر بیماری سے آسانی سے لڑ سکتا ہے۔
بکر ی کے دودھ کا با قا عدہ استعمال بیماریوں سے دور رکھتا ہے۔
بکری کے دودھ کی ایک خا صیت یہ بھی ہے کہ یہ ایچ آئی وی ایڈ ز کے مر یضوں کو لمبے عر صے تک بچاتا ہے ۔
بکری کے دودھ میں اچھا خا صا فو لا د مو جود ہو تا ہے اس لیے دمہ کی بیماری میں اس کا دودھ پینا خاص طور پر مفید ہے۔
کو لیسٹر و ل کی مقدار کم ہو نے اور کیلشیم کی زیادتی ہو نے کی وجہ سے یہ انسانی جسم کے لیے بے حد مفید ہے۔
بکری کا دودھ ہڈیو ں کومضبو ط کر تا اور نظا م ہضم کو بہتر کر تا ہے۔
دل کے امر اض سے بچاتا اور وزن کو کم کر نے میں مدد دیتا ہے۔
بکری کا دودھ چو نکہ جر اثیم سے پاک ہو تا ہے اس لیے یہ بچوں کے لیے بے حد فا ئدہ مند ہے۔ بکری کا دودھ بچوں کی صحت مندی میں اضا فہ کر تا ہے۔
بکر ی کا دو دھ قو ت مد افعت کو بہتر بناتا ہے۔
بلڈ پر یشر کے مر یضوں کے لیے بکری کا دودھ بہترین ہے۔
اس میں وٹامنز کا فی مقدار میں مو جو د ہو تے ہیں اس لیے بچوں کو بڑھنے میں مدد دیتے ہیں۔
کیل مہاسوں اور جلد کی خو بصور تی کے لیے بکر ی کا دودھ فا ئدہ مند ہے۔
آنکھو ں کے نیچے ہلکے دور کر نے کے لیے بکری کے دودھ کا استعمال بہتر ین ہے ۔
خون کی کمی کو دور کر نے کے لیے بکر ی کے دو دھ کو اپنی غذا کا حصہ ضرور بنائیں ۔
چالیس دن مسلسل بکر ی کا دودھ پینے سے مر دانہ طاقت میں اضا فہ ہو تا ہے۔
بکری کے دودھ سے معدہ اور انتڑیا ں بار بار خر اب نہیں ہو تیں۔
گلا خر اب ہو نے کی صورت میں بکر ی کا دودھ مفید ہے یہ بلغم پید ا نہیں کر تا۔
دما غی کام کر نے والوں کے لیے بکری کا دودھ بہتر ین غذا ہے۔
دل کے مر یضوں کے لیے بکری کا دودھ بہترین ہے۔اس سے ہارٹ اٹیک کا خطر ہ کم ہو جاتا ہے۔
مو سمی تبدیلی سے ہو نے والی بیماریو ں سے محفو ظ رکھتا ہے۔
کچھ لوگوں کو گائے کے دودھ سے گیس اور سو جن کا مسئلہ ہو جاتا ہے ۔ بکر ی کا دو دھ پیٹ کے امر اض حل کر تا ہے۔
اس میں چکنائی کی مقدار کم ہو تی ہے اس لیے یہ گائے کے دودھ کے مقابلے میں جلد ہضم ہو جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں