بچے سو تے میں بے چینی کیو ں محسو س کر تے ہیں

بہت سے بچے ایسے ہیں جو نیند میں بھی بے چین رہتے ہیں یا ان کی نیند اس حد تک ڈسٹر ب رہتی ہے کہ وہ سو تے میں اکثر روتے ہیں۔ اکثروالدین بچوں کے اس رویے کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں اور وجہ تلاش کر نے کی کو شش کرتے ہیں جو ان کی بے چینی کی وجہ بنتے ہیں۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ ممکن ہے آپ کے بچے کی بے چینی اور رونے کی وجہ اس کا ڈر ہو۔ ایسی صورت میں بچے اکثر بستر پر روتے، نیند سے جا گ جاتے،بیڈ پر اچھلنے اور ماں یا باپ کے ساتھ چپک کر سوتے ہیں۔ یہ سب باتیں بے ضرر ہو نے کے باوجو د نارمل نہیں ہیں کیو نکہ اگر بچے میں یہ عادت رہیں تو بچے نیند پوری نہ ہو نے کی وجہ سے بد اعتمادی کا شکار ہو تے ہیں۔
بچوں کو عمو ما ًدس سے بارہ گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہو تی ہے یہ نیند ان کی صحت اور نشو ونما کے لیے نارمل ہے۔اگر بچے کی نیند میں چند گھنٹوں کی کمی ہو جائے تو وہ بے چین، ذہنی تناؤ کا شکار اور بد مز اج ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاو ہ نیند کی کمی بچوں کو جسمانی لحاظ سے کمزور کر دیتی ہے بچے اکثر سر درد اور پیٹ درد کی شکایت کر تے ہیں۔ نیند کی کمی ان کی پڑھائی اور غیر نصابی سر گرمیو ں پر اثر انداز ہو تی ہے۔ اس لیے ان کی بہتر صحت اور ذہنی آسو دگی کے لیے ضروری ہے کہ ان کی نیند مکمل ہو۔
ایسی کیا وجوہات ہیں جو بچے کو نیند میں بے چین اور بے خو ابی کا شکار رکھتی ہیں۔
بچوں میں نیند کی بے چینی ان کی عمر یا زندگی کا کو ئی واقع اثر انداز ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلے آپ نے دیکھنا ہے کہ آپ کے بچے کی عمر کیا ہے۔ ا سکو ل جانے والے بچے سو نے میں خو ف محسو س کر تے ہیں۔ انھیں لگتا ہے جیسے ان کے کمرے یا بیڈ کے نیچے کوئی خو فنا ک شے موجود ہے۔ ان کا یہ ڈر انھیں بے چین کرتا ہے اور نیند سے بار بار جگا تا ہے۔ جیسے جیسے بچے بڑے ہو تے ہیں ان کا خو ف ختم ہو نے لگتا ہے اور وہ پر اعتماد ہو کر رات کی بھرپور نیند لیتے ہیں۔
کچھ سمجھدار بچے بھی رات کی بے چینی اور بے آرامی کا شکار ہو تے ہیں ان میں عمو ماً ایسے بچے شامل ہو تے ہیں جو خو فناک مو ویزدیکھنے، Horror کتابیں پڑھنے اور دو ستو ں کے درمیا ن خو فناک باتیں کر تے ہیں۔ ان کا ڈر لاشعوری طور پر ان کے اندر رہتا ہے جو رات کی تنہائی اور سناٹے سے باہر نکل کر ان کو خو فز دہ کر تا ہے اور وہ سو تے میں ڈر اور بے چینی محسو س کر تے ہیں۔
کچھ بچوں میں کسی بات کا خو ف بھی رات کو سو نے نہیں دیتا جیسے پیپروں کی پریشانی، ناکامی کا ڈر، کسی شے کے کھو نے کی فکر یا ماں باپ کے درمیان علیحدگی یا جھگڑا بھی رات کے ڈر کی وجہ بن سکتا ہے۔
گہری نیند میں کسی تیز آواز کا آنا، کسی پرندے کی آواز یا کسی جانو ر کی سر سر اہٹ بچوں کو نیند سے جگا کر بے چین کر دیتی ہے۔
بچوں کے ڈر سے کیسے نپٹا جائے۔
بچوں کے ساتھ مل کر ان کے خو ف کی وجہ تلاشیں۔
بچے کے اندر سے رات کے سناٹے اور اندھیر ے کا خو ف ختم کر یں۔
کمرے میں مکمل اندھیر ا کر نے سے گریزکر یں کمر ے میں لازم نائٹ بلب روشن رکھیں۔
بچے کو سو نے سے پہلے پرسکو ن کر یں۔
ڈراؤنی کہانیاں، مو ویز اور خو فناک باتیں کر نے سے گریز کر یں۔
بچے کے ساتھ اچھی اچھی باتیں کر یں۔
بچوں کو نیند کا اعتماد دیں۔
پر سکو ن نیند آپ کے بچے کو پر اعتماد اور صحت مند رکھ سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں