بچے دانت کیو ں کاٹتے ہیں

دانت کاٹنا ایک ٹیپیکل رویہ ہے جو عمو ماً بچوں میں پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر پانچ ماہ سے دو سال کے بچوں کے درمیان یہ حرکت دیکھنے کو ملتی ہے۔ بچے جیسے جیسے بڑے ہو جاتے ہیں وہ اپنی اس عادت پر قابو پانے لگتے ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دانت کاٹنا ایک غیر مہذب اور خطرناک حرکت ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ بچے کو ا س وقت ہی روک دیا جا ئے جب وہ پہلی بار ایسا کر تا ہے۔
کچھ بچے اس لیے دانت کاٹتے ہیں کیو نکہ ان کو خو د پر کنٹرول نہیں ہو تا۔
اپنے دانت درد کو سکون دینے کے لیے بھی بچے دانت کاٹتے ہیں۔
ان کا سوچنا ہے کہ کیا ہو جائے گا اگر میں کاٹ لوں گا۔
دانت کاٹنے کی عادت
دوسرے بچوں کی نقل کر نا
خود کو طاقت ور سمجھنا
توجہ لینے کے لیے
اپنی حفاظت میں
ضرورت اور خو اہش کے لیے
ذہنی تناؤ یا پریشانی کی وجہ سے
غصہ یا خو ف
کسی بچے کی سرگرمیوں سے جیلس ہو تے ہو ئے
بچے کی اس عادت کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو سمجھا جائے ایک ماں یا باپ ہو نے کی حیثیت سے آپ کا فرض ہے کہ آپ اسے اس گھناؤنے عمل سے روکیں۔
بچے کو سمجھیں اس کے اس مسئلے کو حل کر نے کی کو شش کریں جو وجہ دانت کاٹنا بنا ہے۔
اگر شیر خوار بچہ آپ کی بریسٹ یا کندھے پر دانت کاٹے تو اسے اس حرکت پر بار بار ”نہ“ کی تکرار کر یں وہ سمجھ جائے گا کہ ایسا کر نا غلط ہے۔
اسکول جانے والے بچے اگر ایسا کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ غصے یا پریشانی میں ایسا کر رہے ہیں۔
بچے پر توجہ دیں۔
بچے کو ایسی خوراک دیں جو اس کی دانت کاٹنے کی طلب کو کم کر سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں