بچو ں کے دانتوں میں کیڑا اور آپ کی احتیا ط

دانتو ں میں کیڑا ایک تکلیف دہ امر ہے خا ص طور پر اس وقت جب یہ کیڑا بچوں کے دانتوں میں ہو ۔ دانتوں میں کیڑے کی بہت سی وجو ہا ت ہیں جو کیڑے پید ا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ عمو ماً چھو ٹے بچے اپنے دانتوں کی حفا ظت کر نا نہیں جانتے اور ہر میٹھی چیز کھانے کے بعد دانت صا ف نہیں کر تے۔ یہی وجہ بچے کے دانت میں کیڑے پیدا ہو نے کا سبب بنتی ہے۔
وہ بچے جو رات کو بو تل سے دودھ پینے کے عادی ہو تے ہیں۔ ان بچوں کے دانتوں میں بھی کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ چاکلیٹ اور کینڈیز کھانے والے بچوں کے دانتوں میں نہ صر ف کیڑا لگتا ہے بلکہ وہ وقت سے پہلے ٹو ٹ بھی جاتے ہیں اور بچے کی خوبصورتی پر اثر انداز ہو تے ہیں۔
دانتوں کی بناوٹ میں منر لز ،وٹامن اے، ڈی اور کیلشیم اہم کر دار ادا کر تا ہے۔ اس لیے صحت مند دانتوں کے لیے ان ضروری اجزا ء کی مقدار کو پورا کر نا ضرور ی ہے۔
چھو ٹے بچے چو نکہ اپنے دانتوں کی حفا ظت خو د نہیں کر سکتے اس لیے یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان کے دانتوں میں کیڑا لگنے سے کیسے روک سکتی ہیں۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دانت کا درد ایک انتہائی تکلیف دہ بیماری ہے ۔خاص طور پر اس وقت جب آپ کو یہ درد کیڑا لگنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اس بات کا تصور ہی محال ہے کہ چھو ٹے بچوں کے لیے یہ تکلیف کس قد ر بر داشت سے با ہر ہو سکتی ہے۔ ہم اپنے ننھے پھو لوں کو اس درد سے بچا سکتے ہیں اگر تھو ڑی تو جہ اور محنت کی جائے۔
کو شش کر یں کہ بچے کو میٹھی چیز کم سے کم دیں خا ص طور پر ان کو رات کے وقت میٹھی چیز دینے سے احتر از کر یں۔ ان میٹھی چیزوں میں کینڈی، چاکلیٹ اور ٹا فی وغیر ہ شامل ہے۔ ہو تا یہ ہے کہ جس وقت بچہ یہ کھا کر سوتا ہے تو برش بھی نہیں کر تا ۔ ان میٹھی چیزوں کی وجہ سے دانتوں میں کیڑاپیدا ہو تا ہے جو بچے کو تکلیف میں مبتلا کر تا ہے۔
اگر بچہ سو نے سے پہلے میٹھی چیز کھا لے تو کو شش کریں کہ وہ بنا بر ش کیے نہ سو ئے۔ بر ش کر نے سے منہ سے میٹھی چیز کے اثر ات زائل ہو جاتے ہیں۔
بچے کو کھانا کھانے کے بعد بر ش کر نے کی عادت دو سال کی عمر سے ہی ڈالیں۔ اس طر ح بچہ بر ش کر نے کا عادی ہو گا اور کھانے کے ذرات بھی منہ میں رہ کر جر اثیم پیدا نہیں کر یں گے۔
کچھ بچوں کوعا دت ہو تی ہے نو الہ منہ میں کئی کئی منٹ رکھ کر بیٹھے رہنے کی۔ بچوں کی یہ عا دت بھی دانتوں میں کیڑے پیدا کر نے کا با عث بنتی ہے۔ کو شش کر یں کہ بچے کو اس حرکت سے روکا جائے ۔
رات کو بو تل کا دودھ دینے سے گریز کر یں۔ یہ بھی دانتوں میں کیڑے پیدا کر نے کا سبب بنتا ہے۔
بچوں کو نائلو ن کے بنے بر ش نہ دیں بلکہ نرم ریشوں والے بر ش کا استعمال کر وائیں۔
دہکتے ہو ئے کو ئلوں پر السی کے بیج اور کلو نجی ایک کا غذ پر ڈال کر جلائیں اور اس کا دھو ا ں منہ میں لے جائیں۔ احتیاط کر یں کہ دھو اں گلے میں نہ جائے۔ کچھ دیر اس دھوئیں کو منہ میں رکھیں۔پھر تھوک کو اگل دیں۔ اس سے دانتوں کے کیڑے نکل آئیں گے۔ ( سات سا ل سے چھو ٹی عمر کے بچوں پر یہ ٹو ٹکہ نہ کر یں )
سرسوں کے تیل میں پھٹکری ڈال کر مکس کر لیں اور اسے روئی کی مدد سے کیڑے والے دانتوں پر لگائیں اور کچھ دیر روئی پڑی رہنے دیں۔ اگر کیڑا سامنے والے دانتوں پر لگا ہو تو بر ش کی مدد سے صا ف کر یں۔ اب اسے دانتوں پر دو چار گھنٹے کے لیے لگا رہنے دیں۔ کچھ ہفتو ں کے با قا عدہ استعمال سے کیڑے خو د بخو د نکل جائیں گے۔ ( سات سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے یہ ٹو ٹکہ نہیں ہے )۔

اپنا تبصرہ بھیجیں