بچو ں کی عام بیماری ۔۔۔ کھانسی

کھانسی بڑ ھتے ہو ئے بچو ں میں با لکل عا م بیمار ی ہے۔یہ ایک نارمل سی با ت ہے کہ بچے کو ااچا نک کھانسی ہو اور انھیں گھٹن سی محسو س ہو نے لگے۔لیکن اگر آپ کے بچے کو باربارکھانسی ہونےلگے اورکھانسی کے شربت اوراینٹی بائیوٹکس سے بھی فرق نہ پڑے توسمجھ لیں یہ کوئی انفیکشن،آلو دگی یا قو ت مد افعت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ استھیما ہو سکتا ہے ۔یہ بچپن میں ہو نے والی سب سے زیاد ہ عام بیماریو ں میں سے ایک ہے۔ہر دس میں سے ایک بچہ اس بیمار ی میں مبتلا ہو سکتا ہے ۔
بے شک استھما ایک عام بیمار ی ہے لیکن اس کا علا ج ممکن بھی ہے اور کامیا ب بھی ہے۔خا ص طور پر بچپن میں ہو نے والے اس مر ض کو آسانی سے کنٹر و ل کیا جاسکتا ہے۔لیکن یہ صر ف اس وقت ممکن ہے جب آپ کو استھیما کے بارے میں مکمل معلو مات ہو ں اور یہ مر ض واضح ہو چکا ہو ۔
کچھ لو گوں کا خیال ہے کہ جن کو استھما کا حملہ ہو تا ہے ان کی سا نس سا را دن پھو لی رہتی ہے۔جبکہ ایسا نہیں ہے۔ بچو ں میں استھما کی علامت با ر با ر ہو نے والی کھانسی ہے جو تو اتر سے رہتی ہے کچھ بچے خو ش قسمت ہو تے ہیں کہ ان کو استھما کے حملے کی کیفیا ت بر داشت نہیں کر نی پڑتیں اوریہ اسی و قت ممکن ہے جب آپ اس بیماری کو ابتدا سے پکڑ کر جڑ سے ختم کر یں۔
استھما کو ایک انہیلر سے کنٹر و ل کیا جا سکتا ہے۔یہ ایک جیبی سا ئز کا آلہ ہے جس کی مدد سے بچہ بر اہ راست پھیپھڑو ں تک دو ائی کو انہیلر کر سکتا ہے۔اس کی وجہ سے دو ائی سا نس کے ذریعے سیدھی پھیپھڑو ں تک جاتی ہے ۔ جس سے آکسیجن آرام سے ملتی ہے اور کھانسی کی شد ت میں کمی ہو تی ہے اور سانس بحا ل ہو نے لگتی ہے۔
کچھ لو گ انہیلر کے استعمال کو اچھا نہیں سمجھتے ان کے خیال میں انہیلر کی جگہ دو ائی یا شر بت کا استعمال زیادہ فا ئدہ مند ہو سکتا ہے۔ ایسے لو گوں کا خیال یقیناغلط ہے کیو نکہ جس وقت بچے پر استھما کا حملہ ہو تا ہے تو اسے فوری طور پر فر سٹ ایڈ کی ضرور ت ہو تی ہے اور انہیلر سے بہتر فر سٹ ایڈ نہیں ہو سکتا کیو نکہ حملے کے دوران بچہ اس پور زیشن میں نہیں ہو تا کہ وہ دو ا نگل سکے یا کو ئی بھی شر بت پی سکے ۔ اگر ایسا کرنے میں وہ کا میا ب ہو بھی جائے تو دو ا کو پھیپھڑوں تک جانے میں پور ے جسم سے گزرنا پڑ تا ہے جبکہ انہیلر بر اہ راست پھیپھڑوں تک دوا پہنچاتے ہیں۔
کچھ بچے جن کو معمو لی استھما ہو انھیں اس کے علاج میں کم وقت درکا ر ہو تا ہے بشر طیکہ اس بیماری کو بڑھنے نہ دیا جائے۔جتنی جلد ی ممکن ہو سکے اس بیمار ی کا علا ج شر و ع کر یں کیو نکہ اگر یہ بیماری شد ت اختیا ر کر جائے تو یہ جان لیو ا بھی ہو سکتا ہے۔
احتیا ط کر یں کہ استھما میں مبتلا بچو ں کی جیب میں ہر وقت انہیلر مو جو د ہو نا چاہیے۔ خا ص طور جس وقت وہ گھر سے با ہر ہو ں ۔ استھما ایک تکلیف دہ بیماری ہے اس سے اپنے بچے کو بر وقت بچائیں۔ اگر بچپن میں اس بیماری کا علاج نہ ہو سکے تو بڑے ہو نے پر یہ نہ صر ف شدت اختیا رکر جاتی ہے بلکہ اس کے ختم ہو نے کے چانس بھی کم ہو جاتے ہیں۔ اپنے بچو ں کی اچھی اور نارمل زندگی کے حصو ل کے لیے اس بیمار ی کو معمو لی نہ سمجھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں