بچوں کی نیلی جلد

آپ یہ سن کر یقینا حیر ان ہو ں گے کہ بچوں کی جلد نیلے رنگ کی کیسے ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ سچ ہے کہ کچھ بچے نیلی جلد کے ساتھ پید ا ہو تے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ٹھیک ہوجاتی ہے۔ لیکن ایسے بچے دو سرے بچو ں کی نسبت الگ ہو تے ہیں۔ عمو ماً ایسے بچو ں کی جلد نیلی یا جامنی رنگ کی ہو تی ہے اور یہ cyanosisکہلاتا ہے۔
جلد کا رنگ نیلا ہو نا قا بل غور بات ہو تی ہے۔نیلی جلد کے حامل بچوں کی جلدمو ٹی ہو تی ہے۔ جیسے ہو نٹ، کان اور ناخن وغیرہ۔ ایسے بچے عام نہیں ہو تے اس بیماری کی وجوہا ت مختلف ہو تی ہیں۔ کبھی یہ دل کے امر اض کی وجہ سے ہو سکتی ہے جیسے دل میں سو راخ ہو نا یا دل کا غیر معمو لی حالت میں ہو نا۔ بعض اوقات یہ وراثتی بھی ہو سکتا ہے۔
بچے کی رنگت کا نیلا ہو نا خو ن کی مکمل سپلائی نہ ہو نا بھی ہو سکتا ہے جب خو ن دل سے پھیپھڑوں تک پمپ کر تا ہے اور اسے آکسیجن ملتی ہے تو بعض اوقات خون کی سپلائی رک جاتی ہے اور جلد نیلی ہو جاتی ہے۔
بعض ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ کسی زہر یلے جر اثیم کی وجہ سے بھی جلد نیلی ہو سکتی ہے۔ یہ بچو ں میں پیدائشی ہو تی ہے جو ماں کے دودھ کی خر ابی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے ایسی صور ت میں ما ں کو اپنے دو دھ کا ٹیسٹ کر وانا چاہیے۔
کچھ بچو ں میں فارمو لا دو د ھ استعمال کر نے اور مو افق نہ آنے کی صور ت میں بھی یہ حالت ہو جاتی ہے۔
عمو ماًیہ صور ت حال چھ ما ہ تک بچوں میں رہتی ہے۔یہ بچے دو سرے بچوں کی نسبت حساس ہو تے ہیں بیماریو ں کا جلد شکار ہو جاتے ہیں۔ان میں وِل پاور دو سرے بچوں کی نسبت کمزور ہو نے کی وجہ سے اکثر بیماری حملہ آور رہتی ہے۔عمو ماً روتے ہو ئے ان بچو ں کی رنگت مزید نیلی ہوجاتی ہے جو کہ خطر ناک ہو سکتی ہے۔ کیو نکہ جلد کی نیلی رنگت کا تعلق دل سے ہو تا ہے۔ جب بچہ روتا ہے تو اس کا دل سکڑ کر مزید تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے رنگت مزید نیلی ہو جاتی ہے۔
چہرے کی نیلی رنگت پیدائشی ذیا بیطس ہو نے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ یہ عمو ماً اس وقت ہو تا ہے جب بچے کو ٹائپ ٹو ذیابیطس ہو۔
نیلی رنگت کے حامل بچوں کو درج ذیل مسائل ہو سکتے ہیں۔
بے چینی اور چڑ چڑا پن
دودھ پینے میں مسئلہ
وزن میں کمی یا زیادتی
نشو ونما کے مسائل
دل کی دھڑکن کا تیز یا کم ہو نا
سانس کا پھو لنا
انگلیو ں کا جڑا ہو ا ہو نا
اگر آپ کو بچے کی رنگت میں معمو لی تبدیلی لگے تو اس کے درج ذیل ٹیسٹ کر وا لیں تا کہ بر وقت علاج شروع ہو سکے۔
خو ن کے ٹیسٹ
ایکسرے (جس میں پھیپھڑوں اور دل کے سائز کا پتہ چل سکے)
ای کے جی
دل کا مکمل معا ئنہ
آکسیجن کا معا ئنہ تا کہ پتہ چل سکے کہ خون میں کس قد ر آکسیجن مو جو د ہے۔
احتیاط
ایسے بچوں کو بارہ مہینے تک زیادہ پانی دینے سے احتیاط کر یں۔
سات ما ہ سے قبل بچے کو نیو ٹرین والی غذائیں نہ دیں جیسے پالک، گا جر، اناج، بروکلی۔
بچوں کے سامنے الکو حل اور سگریٹ نوشی سے گریز کر یں۔
ڈاکٹر آپ کو سرجر ی کا مشورہ دے سکتا ہے لیکن چو نکہ سرجر ی نو مو لود کے لیے رسکی ہو سکتی ہے اس لیے احتیا ط کریں اس بیماری پر بھرپور تو جہ اور علاج سے قابو پایا جا سکتا ہے بشر طیکہ آپ اس کا علا ج فور ی شروع کر دیں تا کہ بچہ نارمل زندگی گزار سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں