بچوں میں دل کے امراض

بچوں میں عام طور پر دل کے امر اض کی علامات ظاہر نہیں ہو تی۔ بعض اوقات یہ علامات آہستہ اور وقت گزرنے کے ساتھ نمو دار ہو تی ہیں۔اگر بچہ وقت کے ساتھ زیادہ تھکن اور تھکاوٹ محسو س کر ے تو اس بات کو نارمل مت لیں بعض اوقات بچے میں اتنی تبدیلیاں رونما ہو تی ہیں جو سریس تو نہیں ہو تیں لیکن اہم ضرور ہو تی ہیں۔ ہر عمر کے بچے میں دل کے امراض کی علامات مختلف ہو تی ہیں۔اکثر دل کے امراض میں مبتلا بچے دل کی دھڑکن میں غیر معمو لی تبدیلی محسو س کر تے ہیں جس کو عام طور بچے کی بھا گ دوڑ شرارتوں اور کھیل کو د سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
جب دل خون کو پمپ کر تا ہے تو یہ سارے جسم تک پہنچتا ہے۔ خون آکسیجن مہیا کر تا ہے جس کی خلیوں کو ضرورت ہو تی ہے۔ جب دل اور وریدیں اپنا کام مکمل نہیں کر تیں تو یہ دل کے امراض کی وجہ بنتا ہے۔ بچوں کاان سے کوئی تعلق نہیں ہو تا۔ کیو نکہ بچوں میں دل کے امر اض کی کوئی خاص علامت سامنے نہیں آتی۔
چھو ٹے بچوں میں دل کے امر اض
بچے جب ماں کے پیٹ میں ہو تے ہیں تو ان کو کم مقدار میں آکسیجن کی ضرورت ہو تی ہے۔ لیکن پیدائش کے بعد ان کو اتنی ہی آکسیجن درکا ر ہو تی ہے جو نارمل ہو جب بچہ نارمل سے کم آکسیجن محسو س کر ے تو اس کی جلد نیلی ہو نے لگتی ہے۔یہ ”نیلا یرقان“ کہلاتا ہے عام طور پر یہ نو مو لو د کو ہو تا ہے۔ ہسپتالوں میں عمو ما ًنو مو لو د کا تکلیف کے بغیر آکسیجن کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے جو pulse oximetry کہلاتا ہے۔
نو مولود کا سب سے بڑا مسئلہ دودھ پینا اور اچھی نشو ونما ہے۔ اگر یہ باقاعدہ نہ ہو تو دل کے دورے کی طر ف اشارہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر نو مو لود کو کسی قسم کاانفیکشن ہو جائے تو وہ بھی دل پر اثر کر سکتا ہے۔
بچے عام لوگوں کی نسبت تیز سانس لے سکتے ہیں۔تیز سانس لیناtachypneaکہلاتا ہے۔بچوں میں دل کے امراض کی جو وجہ سامنے آئی ہے وہ دودھ نہ پینا(نومولود اور شیر خو ار)وزن میں کمی وجہ ہو سکتی ہے۔
دودھ پیتے ہو ئے زیادہ پسینہ آنا بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن یہ عام نہیں ہے۔
اگر بچے (بڑے)اکثر سانس لینے میں زیادتی اور کمی محسو س کر یں تو یہ دل کے امراض کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں دل کا دورہ سب سے زیادہ عام ہے۔
ٹین ایجر اور بڑے بچے اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے جسم میں کیا تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ بعض بچے ابنارمل دھڑکن کو بھی محسو س کرتے ہیں جبکہ کچھ اس بارے میں تو جہ نہیں دیتے۔
اکثر سانس کے ردہم میں اتار چڑھاؤ استھیما کی علامت بھی ہو سکتا ہے جو کہ عام بیماری ہے۔
ٹین ایجرز میں دل کے مرض میں سینے کا درد بھی اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن اکثر ڈاکٹر اس درد کو گیس اور ورزش بھی سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر یہ مسائل وقفے وقفے سے دنوں تک جاری رہیں تو ان پر تو جہ دینا ضروری ہے۔
کچھ بچے دل کے مسئلے کے ساتھ پیدا ہو تے ہیں۔ یعنی انھیں یہ بیماری ماں کے پیٹ سے لگتی ہے۔اس کی وجہ خون کا کم بہاؤ اور نالیوں کا باریک ہونا ہے۔
کچھ بچوں کے دل میں سو ارخ ہو تا ہے یہ بھی پیدائشی ہو سکتا ہے۔
دل کی دائیں طر ف کا موٹا ہو نا۔
بچوں میں اس بیماری کو سر جری، ادویات اور ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیا جاتا ہے۔
کچھ بچے اس علاج کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ کچھ نارمل زندگی گزارنے میں کامیاب رہتے ہیں۔
اگر ٹین ایجر میں دل کے امراض ہو ں تو اس کی وجہ مو ٹاپا، ذیابیطس اور ڈپریشن ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ کو لیسٹرول کا بڑھنا بھی وجہ ہو سکتا ہے۔
بعض اوقات دل کے امراض کی وجہ بچوں میں وائرل انفیکشن بھی ہو سکتی ہے جس میں وائرل کے ختم ہو تے ہی یہ بیماری ختم ہو جاتی ہے۔
بچے میں درج ذیل علامات کو معمو لی نہ سمجھیں۔
کمزوری
سر چکرانا
بے ہو شی
کھانے پینے میں مسائل
اگر ایسی علامات ہو ں تو ڈاکٹر سے رجوع کر یں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں