اگر بتی اور لوبان کی دھو نی سے کینسر کا خطرہ۔۔۔۔ تحقیق

نیٹ رپورٹ: ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بتی اور لوبان سلگا کر ماحو ل کو معطر بنانے میں مدد ملتی ہے لیکن اہمیت اس بات کی ہے کہ جو لوگ اس دھو ئیں کو اپنے اندر اتاریں تو پھیپھڑوں میں اتارنے سے سانس کی نالیوں کے سر طان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
سنگا پور ماہرین نے اگر بتی اور لوبان کے دھو ئیں کو خطرناک قر ار دیتے ہو ئے کینسر جیسے مو ذی مرض کا ذمہ دار قر ار دیا ہے۔ ماہرین نے اپنی ریسرچ میں بتایا ہے کہ چیزوں کو جلانے سے سے کینسر کا سبب بننے والے اجزا وجود میں آتے ہیں۔جن میں بینزین اور پولی ایرومیٹک ہائیڈروکا ربنز شامل ہیں ے
تحقیق میں ان افر اد پر ریسرچ کی گئی جو لوبان اور اگر بتی کی دھو نی دیتے اور لیتے تھے اس تحقیق میں شامل شرکا ء کے گھر وں میں آنے والے افر ادمیں بارہ سال بعد تقریبا ًسب ہی مردوں اور عورتوں میں سانس ناک، منہ اور حلق کے کینسر کی تشخیص ہو ئی جبکہ اس تحقیق میں شامل وہ افر اد جو سانس کے ذریعے اس دھو ئیں کو اندر لے جاتے وہ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہوئے۔
ماہرین نے اس کے استعمال سے سختی سے منع کر تے ہو ئے کہا ہے کہ اگربتی اور لوبان کا استعمال اس حد تک نہ کریں کہ اس کا دھو اں آپ کے اندر کینسر کے جر اثیم کو جنم دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں