استھما۔۔۔پھیپھڑوں کی بیماری

یہ ایک خطر ناک بیماری ہے جس کابر اہ راست تعلق پھیپھڑوں سے ہے۔اگر اس کا ابتدائی اسٹیج سے پتہ چل جائے تو اس کا بہتر علاج ہو سکتا ہے لیکن اگر اس بیماری کا ابتدا ء پر پتہ نہ چلے تو یہ جان لیو ا ہو سکتی ہے۔ اس بیماری میں سانس لینے میں دشو اری ہو تی ہے۔استھما کے مریض ہو ا اور سانس لینے کے عمل میں نہایت حساس ہو جاتے ہیں۔ اس بیماری کی وجوہا ت کی بنا ء پر پھیپھڑوں میں ایسی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے ہو ا کا سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں میں آنا اور تمام مر احل سے گزر کر پھیپھڑوں اور سانس کی نالیوں سے با ہر آنا ے حد مشکل ہو جاتا ہے۔
اس بیماری کی درج ذیل علامات ہو تی ہیں۔
کھانسی
گلے میں خر اش
سینے میں جکڑن
ہو ا کی کمی
اس بیماری میں انسانی پھیپھڑے اور وہ نالیاں جن سے ہو ا گزر کر پھیپھڑوں میں داخل ہو تی ہے بر ی طر ح زخمی ہو جاتے ہیں۔ گو کہ اس کا علاج ممکن ہے۔لیکن اس کا متو اتر علاج ہی بہتر ہے۔
انسان کے جسم میں کچھ خا ص مادے ہو تے ہیں جنہیں اینٹی با ڈیز کہا جاتا ہے اور اگر ہو ا کے ذریعے کچھ ایسی مضر الرجی سانس کی نالیو ں سے ہو تی ہو ئی پھیپھڑوں میں داخل ہو جائیں تو پھر یہی الرجی اس مر ض کا سبب بن سکتی ہے۔
اس مر ض کی وجوہات دھو ل،مٹی، سگریٹ کادھو ا ں،پھپھو ندی ناخوشگو ار بو، مختلف قسم کے کیمیکلز، جانوروں کے جرثومے ہو سکتی ہے۔
کتے، بلیاں، گھو ڑے اور وہ جانورجن کی کھال پر بال ہو ں وہ سب الرجی کی وجہ بن سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں الرجی کی دو اقسام ہیں۔
دھو ل مٹی
گر دو غبار
مٹی میں پائے جانے والے جر اثیم انسانی صحت اور سانس لینے کے عمل خاص طور پر استھما کے مریضوں کے لیے خطرناک ہوتے ہیں۔
یہ جر اثیم مائیکر و خوردبین سے نظر آسکتے ہیں۔ ان سے بچنا مشکل تو ہو سکتا ہے ناممکن نہیں ہو تا۔
احتیاط
باتھ اورکچن کو اینٹی بیکٹیریل کیمیکل سے دھو نے سے یہ جر اثیم مر جاتے ہیں۔
بستروں کے کو ر ہر ہفتے گرم پانی سے دھو ئیں۔
جہاں استھما کے مریض ہو ں وہا ں قالین کا استعمال نہ کر یں۔
پردوں میں استھما کے مرض کو بڑھانے والے جر اثیم پائے جاتے ہیں۔ اس لیے ہر پندرہ دن بعد پردوں کی دھلائی لازم کر یں۔
استھما کے مریض سگریٹ نو شی سے گریز کریں اور سگریٹ کے دھو ئیں سے بچیں۔
گھر میں جانور نہ پالیں خاص طور پر بلی، کتا اور گھو ڑا وغیر ہ۔
استھما کے مریض جم میں ایکسرسائز کر نے سے گریز کر یں کیو نکہ اس سے سانس پھو لتی ہے جو استھما کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
سو ئمنگ پو ل میں نہانے سے گریز کر یں۔
ان سب پر عمل کر کے استھما سے بچا تو نہیں جا سکتا لیکن ان کے خطرناک حملے کو روکا جاسکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں